Friday, 7 November 2025

ہارٹ اٹیک سے ایک مہینہ پہلے نظر آنے والی 8 علامات۔۔ جانیے وہ کون سی علامات ہیں See more



​ہارٹ اٹیک سے پہلے کی کچھ عام انتباہی علامات جو نظر آ سکتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

​💔 ہارٹ اٹیک سے قبل نظر آنے والی اہم علامات

  1. ​شدید اور غیر معمولی تھکاوٹ (Fatigue):
    • ​بغیر کسی وجہ کے بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنا، خاص طور پر خواتین میں یہ ایک عام علامت ہے۔
    • ​روزمرہ کے معمول کے کام، جیسے نہانا یا ہلکی پھلکی سرگرمی بھی مشکل لگے۔
    • ​یہ تھکاوٹ کئی دنوں یا ہفتوں تک رہ سکتی ہے۔
  2. ​سینے میں بے چینی اور تکلیف (Chest Discomfort):
    • ​سینے کے بیچ میں یا بائیں جانب دباؤ، بھاری پن، جکڑن، یا درد کا احساس ہونا۔
    • ​یہ تکلیف کچھ منٹوں تک رہ سکتی ہے، غائب ہو کر دوبارہ آ سکتی ہے، یا زیادہ دیر تک بھی چل سکتی ہے۔
  3. ​جسم کے دیگر حصوں میں درد کا پھیل جانا (Pain Spreading):
    • ​درد کا سینے سے شروع ہو کر بازو (خاص طور پر بائیں بازو)، کمر، گردن، جبڑے، یا پیٹ کے اوپری حصے تک پھیل جانا۔
  4. ​سانس لینے میں دشواری (Shortness of Breath):
    • ​بغیر کسی جسمانی مشقت کے یا آرام کی حالت میں بھی سانس کا پھولنا یا سانس لینے میں مشکل محسوس ہونا۔
    • ​یہ علامت سینے کی تکلیف کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔
  5. ​متلی، قے، یا پیٹ میں درد (Nausea, Vomiting, or Stomach Pain):
    • ​بار بار متلی، قے (الٹی)، یا بدہضمی جیسا احساس ہونا۔
    • ​پیٹ یا معدے میں درد کا بار بار ہونا، جو کسی عجیب طرح کا ہو اور آتا جاتا رہے۔ یہ خواتین میں زیادہ عام ہے۔
  6. ​ٹھنڈے پسینے آنا (Cold Sweats):
    • ​اچانک اور بلاوجہ ٹھنڈے پسینے آنا، جیسے ٹھنڈے پسینے میں شرابور ہو جانا۔
  7. ​چکر آنا یا غشی کا احساس (Dizziness or Lightheadedness):
    • ​اچانک سر چکرانا، بے ہوش ہو جانا، یا ایسا محسوس ہونا کہ جیسے ابھی غشی طاری ہو جائے گی۔
  8. ​بے چینی اور اضطراب (Anxiety and Restlessness):
    • ​شدید بے چینی، گھبراہٹ، یا کسی بُرے واقعے کے ہونے کا بے جا خوف محسوس ہونا۔
    • ​کچھ مریضوں میں نیند میں بھی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
  9. ​اہم نوٹ: یہ علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں، اور کچھ لوگوں میں (خاص کر خواتین یا ذیابیطس کے مریضوں میں) ہارٹ اٹیک سے پہلے بہت ہلکی یا خاموش علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، یا بعض اوقات کوئی علامت بالکل بھی ظاہر نہیں ہوتی۔ خواتین میں، سینے کے درد کے بجائے تھکاوٹ، سانس کی قلت، اور جبڑے/کمر کے درد کی علامات زیادہ دیکھی گئی ہیں۔


    ​اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی شدید یا نئی علامت محسوس ہو، تو اسے نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال جائیں یا ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔


    ۔ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے آپ اپنی زندگی میں کئی اہم اور سادہ تبدیلیاں لا سکتے ہیں جو آپ کے دل کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    ​🍏 صحت مند طرزِ زندگی کے بنیادی اصول

    ​1. خوراک میں احتیاط (Dietary Changes)

    • ​سالم اناج اور پھل سبزیاں: اپنی خوراک میں پھل، سبزیاں، اور ثابت اناج (Whole Grains) جیسے جئی (Oats)، براؤن چاول، اور گندم کی روٹی کو شامل کریں۔
    • ​نمک اور چینی میں کمی: نمک (Sodium) اور شکر (Sugar) کا استعمال کم سے کم کریں۔ بازار کے ڈبہ بند کھانوں سے پرہیز کریں جن میں یہ دونوں چیزیں زیادہ ہوتی ہیں۔
    • ​صحت مند چکنائی: تلی ہوئی اور سیرشدہ چربی (Saturated Fats) والی چیزوں سے بچیں۔ اس کی بجائے مچھلی، زیتون کا تیل، اور گری دار میوے (نٹس) جیسے صحت مند غیر سیرشدہ چکنائی (Unsaturated Fats) کا استعمال بڑھائیں۔

    ​2. جسمانی سرگرمی (Physical Activity)

    • ​باقاعدہ ورزش: ہفتے میں کم از کم 150 منٹ کی درمیانی شدت کی ورزش (جیسے تیز چلنا یا جاگنگ) لازمی کریں۔
    • ​زیادہ حرکت: اگر آپ کی نوکری بیٹھنے والی ہے تو ہر گھنٹے بعد اٹھ کر تھوڑا سا چلیں اور جسم کو کھینچیں۔

    ​3. صحت کا انتظام (Health Management)

    • ​بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول: اپنے بلڈ پریشر اور ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھیں۔ اگر آپ کو یہ مسائل ہیں تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق دوائی باقاعدگی سے لیں۔ یہ دونوں چیزیں دل کی بیماریوں کا بڑا سبب ہیں۔
    • ​کولیسٹرول پر نظر: اپنا کولیسٹرول لیول چیک کرواتے رہیں اور اسے مناسب حد میں رکھنے کی کوشش کریں۔

    ​4. بری عادتوں سے پرہیز

    • ​تمباکو نوشی ترک: سگریٹ نوشی اور کسی بھی قسم کے تمباکو کو فوراً ترک کر دیں۔ تمباکو دل کی شریانوں کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے۔
    • ​شراب نوشی سے گریز: شراب کا استعمال ترک کریں یا کم سے کم کریں۔

    ​5. تناؤ سے نجات (Stress Management)

    • ​تناؤ پر قابو: ذہنی دباؤ (Stress) کو کم کرنے کے طریقے اپنائیں، جیسے یوگا، مراقبہ (Meditation)، یا وہ کام کرنا جو آپ کو سکون دے۔
    • ​مناسب نیند: روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی مکمل نیند ضرور لیں۔

    ​اگر آپ ان اصولوں پر عمل کرتے ہیں، تو آپ اپنے دل کی صحت کو بہت بہتر بنا سکتے ہیں۔

    ​کیا آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ فوری طور پر دل کے دورے کی صورت میں کیا ابتدائی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟


ہارٹ اٹیک کی صورت میں ابتدائی اقدامات کو جاننا جان بچانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ خدا نہ کرے، لیکن اگر آپ یا آپ کے آس پاس کسی کو ہارٹ اٹیک کے حملے کا شبہ ہو تو آپ کو یہ اقدامات فوری طور پر کرنے چاہیئیں:

​🚨 ہارٹ اٹیک کی صورت میں فوری اقدامات

​1. طبی امداد کے لیے فون کریں

  • ​1122 یا ایمرجنسی نمبر پر کال کریں: سب سے پہلا اور اہم کام یہ ہے کہ فوری طور پر ایمبولینس کو بلائیں۔ یہ واضح کر دیں کہ یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی (ہارٹ اٹیک) کا معاملہ ہے۔
  • ​ہارٹ اٹیک کے مریض کو حرکت نہ دیں: مریض کو فوراً بیٹھنے یا لیٹنے میں مدد کریں (اکثر بیٹھنا بہتر ہوتا ہے)۔ انہیں آرام دہ پوزیشن میں رکھیں اور یقین دلائیں کہ مدد آ رہی ہے۔

​2. ایسپرین دیں (اگر دستیاب ہو)

  • ​ایک ایسپرین چبائیں: اگر مریض کو کسی دوا سے الرجی نہ ہو اور اسے ڈاکٹر نے ایسپرین (Aspirin) لینے سے پہلے کبھی منع نہ کیا ہو، تو انہیں بچوں کی 325 ملی گرام والی ایسپرین کی ایک گولی یا 162-325 ملی گرام کی بالغوں والی گولی کو چبانے اور نگلنے کے لیے دیں۔
  • ​وجہ: ایسپرین خون کے جمنے (Blood Clots) کو بننے سے روکتی ہے، جو شریان کو بند کر سکتے ہیں، اور اس سے دل کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

​3. نائٹروگلیسرین (Nitroglycerin) کا استعمال

  • ​اگر مریض پہلے سے دل کی بیماری کا علاج کروا رہا ہے اور اس کے پاس نائٹروگلیسرین موجود ہے، تو انہیں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق یہ دوا استعمال کرنے میں مدد کریں۔ یہ شریانوں کو کھول کر خون کے بہاؤ کو بہتر بنا سکتی ہے۔

​4. کپڑوں کو ڈھیلا کریں

  • ​مریض کے تنگ کپڑوں، جیسے کالر یا ٹائی، کو ڈھیلا کر دیں تاکہ سانس لینے میں آسانی ہو۔

​5. CPR شروع کریں (اگر ضروری ہو)

  • ​اگر مریض بے ہوش ہو جائے اور سانس لینا بند کر دے یا اس کی نبض (Pulse) نہ مل رہی ہو، تو آپ کو یا کسی ٹرینڈ شخص کو سی پی آر (CPR - Cardiopulmonary Resuscitation) شروع کر دینا چاہیے۔ یہ مدد آنے تک خون کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

​یاد رکھیں: ہارٹ اٹیک ایک انتہائی سنگین ایمرجنسی ہے۔ وقت ضائع نہ کریں۔ مریض کو خود ڈرائیو کر کے ہسپتال لے جانے کے بجائے ایمبولینس کا انتظار کریں، کیونکہ ایمبولینس میں آنے والے عملے کے پاس مریض کو راستے میں ہی لائف سیونگ علاج شروع کرنے کا سامان موجود ہوتا ہے۔


​ سی پی آر (CPR) کا طریقہ کار 


جی بہتر! سی پی آر (CPR) یعنی Cardiopulmonary Resuscitation ایک ایسا ہنگامی طریقہ کار ہے جو کسی ایسے شخص کی جان بچانے میں مدد دے سکتا ہے جس کی سانس یا دل کی دھڑکن رک گئی ہو۔

​یہ ایک تربیت یافتہ شخص ہی کو کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی تربیت یافتہ شخص موجود نہ ہو اور ایمرجنسی سروسز آنے میں دیر ہو تو ہر شخص کو اس کی بنیادی معلومات ہونی چاہیئیں۔

​🫀 سی پی آر (CPR) کے بنیادی اقدامات

​CPR میں بنیادی طور پر دو چیزیں شامل ہوتی ہیں: سینے کو دبانا (Chest Compressions) اور منہ سے سانس دینا (Rescue Breathing)۔

​1. حالت کا جائزہ لیں (Check the Scene and Victim)

  • ​حفاظت: سب سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ آس پاس کا ماحول آپ اور مریض دونوں کے لیے محفوظ ہے۔
  • ​مریض کا ردعمل: مریض کو ہلکے سے کندھے سے ہلا کر یا آواز دے کر دیکھیں کہ آیا وہ ردعمل دے رہا ہے یا نہیں۔
  • ​سانس اور نبض: چیک کریں کہ مریض سانس لے رہا ہے یا نہیں (سانس لینے کی کوئی آواز یا سینے کی حرکت نہیں ہو رہی؟) اور کیا نبض (Pulse) چل رہی ہے؟

​2. ایمرجنسی کال (Call for Help)

  • ​اگر مریض بے ہوش ہے اور سانس نہیں لے رہا یا اس کی نبض نہیں چل رہی، تو فوراً ایمرجنسی نمبر (جیسے 1122) پر کال کریں اور ایمبولینس بلائیں۔

​3. سینے کو دبانا (Chest Compressions)

  • ​مریض کو سخت اور ہموار سطح پر پیٹھ کے بل لٹا دیں۔
  • ​ہاتھوں کی پوزیشن: اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی کا نچلا حصہ مریض کے سینے کے بالکل بیچ، یعنی دونوں نپلز کے درمیان، رکھیں۔ دوسرے ہاتھ کو اس کے اوپر رکھ کر انگلیوں کو آپس میں جوڑ لیں۔
  • ​دبانا: اپنی کہنیوں کو سیدھا رکھیں اور اپنے جسم کے وزن کا استعمال کرتے ہوئے سینے کو دبائیں۔
  • ​مقدار اور گہرائی: سینے کو تقریباً 2 انچ (5 سینٹی میٹر) تک نیچے دبائیں۔ یہ عمل تقریباً 100 سے 120 بار فی منٹ کی رفتار سے کریں۔ (ایک منٹ میں 100 سے 120 بار)
  • ​مکمل واپسی: ہر دباؤ کے بعد سینے کو پوری طرح واپس آنے دیں تاکہ دل بھر سکے۔

​4. منہ سے سانس دینا (Rescue Breathing)

  • ​اگر آپ کو باقاعدہ سی پی آر کی تربیت ملی ہے:
    • ​30 دباؤ کے بعد، مریض کے سر کو پیچھے کی طرف جھکائیں اور ٹھوڑی کو اوپر اٹھا کر ہوا کا راستہ کھولیں۔
    • ​مریض کی ناک کو چٹکی سے بند کریں، اور اپنے منہ کو اس کے منہ پر رکھ کر دو بار سانس دیں۔ ہر سانس اتنی ہو کہ سینہ ہلکا سا اوپر اٹھے۔
    • ​اس کے بعد دوبارہ 30 دباؤ اور 2 سانس کا سائیکل شروع کریں۔
  • ​اہم نوٹ (صرف ہاتھ والا CPR): اگر آپ کو منہ سے سانس دینے کی تربیت نہیں ملی ہے یا آپ ایسا نہیں کرنا چاہتے، تو آپ صرف سینے کو دباتے رہنے والا CPR (Hands-Only CPR) کر سکتے ہیں۔ ایمبولینس آنے تک بغیر رکے تیزی سے سینے کو دباتے رہیں۔


    ​CPR ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن مناسب ٹریننگ بہت ضروری ہے۔ اگر آپ نے کبھی CPR کی تربیت نہیں لی، تو مقامی ہسپتال یا ادارے سے باقاعدہ تربیتی کورس لینا چاہیے۔

    ​کیا آپ اپنی صحت سے متعلق کوئی مخصوص تشویش پر بات کرنا چاہیں گے، یا آپ مزید جاننا چاہیں گے کہ دل کی صحت کے لیے کون سی سکریننگ یا ٹیسٹ اہم ہیں؟

Thursday, 6 November 2025

پاکستانی وزارت اوورسیز کا نیا اعلان



  • ​حلف نامہ: ایف آئی اے کے کچھ اہلکاروں کی طرف سے نیا حلف نامہ مانگنے کا عمل شروع کیا گیا تھا (انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے)، لیکن اس پر شدید تنقید اور عوامی پریشانی کے بعد۔
  • ​وزارت کا حکم: اوورسیز پاکستانیز کی وزارت نے اس اقدام کو روکنے کا حکم دیا ہے اور تصدیق کی ہے کہ ورک ویزا پر جانے والوں کے لیے کوئی نئی سرکاری شرط لاگو نہیں ہے۔

​نتیجہ: عملی طور پر اب وزارت کے حکم پر اس حلف نامے کی شرط کو ختم یا غیر مؤثر کر دیا گیا ہے، اور ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ کسی بھی قانونی مسافر کو آف لوڈ نہ کریں۔

​اگر آپ بیرون ملک ملازمت کے لیے جا رہے ہیں تو آپ کو اب بھی Overseas Employment Corporation (OEC) سے تصدیق اور پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے پروٹیکٹر لگوانے کی عام قانونی شرائط پوری کرنی ہوں گی

بڑی آنت کے کینسر کی علامات جلدی سے جان لو کہیں دیر نہ ہو جائے.See more

 


۔

​بڑی آنت کے کینسر (Colorectal Cancer) کی کچھ عام علامات جو ہو سکتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

​⚠️ بڑی آنت کے کینسر کی ممکنہ علامات

  • ​💥 آنتوں کی عادات میں تبدیلی:
    • ​قبض (Constipation) یا اسہال (Diarrhea) کا نیا اور مسلسل ہونا۔
    • ​آنتوں کو پوری طرح خالی نہ کر پانے کا احساس۔
    • ​عام طور پر پاخانہ پتلا ہونا یا تنگ ہو جانا (Pencil-thin stools)۔
  • ​🩸 پاخانے میں خون آنا (Rectal Bleeding):
    • ​پاخانے میں سرخ یا گہرا خون آنا۔
    • ​پاخانے کا رنگ بہت گہرا یا کالا ہو جانا، جو خون کی موجودگی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
  • ​😩 پیٹ میں تکلیف اور درد:
    • ​مسلسل پیٹ میں درد، گیس، یا مروڑ کا رہنا جو ختم نہ ہو۔
    • ​پیٹ کے نچلے حصے میں مسلسل بے چینی یا درد۔
  • ​** debilitation کمزوری اور تھکاوٹ:**
    • ​بغیر کسی وجہ کے مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری (Fatigue) محسوس ہونا، جو بعض اوقات اندرونی خون بہنے (Internal bleeding) کی وجہ سے آئرن کی کمی (Anemia) سے متعلق ہو سکتی ہے۔
  • ​📉 غیر واضح وزن میں کمی:
    • ​بغیر کوشش یا ڈائٹ کے اچانک اور غیر متوقع وزن کم ہونا۔

​🚨 ضروری ہدایت

​یہ یاد رکھیں کہ یہ تمام علامات کینسر کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے، کم خطرناک حالات (جیسے بواسیر، جلن والی آنتوں کا سنڈروم - IBS، انفیکشن) کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت مسلسل یا پہلے سے مختلف محسوس ہو، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے ملنا اور ضروری ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہے۔ ابتدائی تشخیص علاج کے امکانات کو بہت بہتر بناتی ہے۔

​کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو اس متعلق کچھ مزید معلومات تلاش کر کے دوں کہ بڑی آنت کے کینسر کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر عام طور پر کون سے ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں؟

Saturday, 12 October 2013

عید الاضحیٰ منانے کی تیاری-------------ہندوستان میں سمندری طوفان: پانچ لاکھ افراد کی نقل مکانی

دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحیٰ منانے کی تیاری میں مصروف ہیں، یہ تہوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے جو انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم پر سر جھکاتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کی نیت کی، جس پر اللہ نے خوش ہو کر چھری پھرنے سے پہلے حضرت اسماعیل کی جگہ دنبے کو رکھ دیا تھا۔ پاکستان میں 
عیدالاضحیٰ سولہ اکتوبر کو منائی جائے گی۔ تصاویر: اے ایف پی، رائٹر


ہندوستان میں سمندری طوفان: پانچ لاکھ افراد کی نقل مکانی


بارہ اکتوبر کو لی گئی اس تصویر میں برہمپور سے لوگوں کی بڑی تعداد ایک امدادی ٹرک پر سوار ہوکر محفوظ مقام تک جارہی ہے۔ اے پی تصویر
www.urdunewsgroup
بارہ اکتوبر کو لی گئی اس تصویر میں برہمپور سے لوگوں کی بڑی تعداد ایک امدادی ٹرک پر سوار ہوکر محفوظ مقام تک جارہی ہے۔ اے پی تصویر
نئی دہلی: ہفتے کے روز ہندوستان کے مشرقی ساحل پر شدید طوفان  سے ممکنہ خطرے کے تحت کم  از کم پانچ لاکھ افرادکو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
ہندوستانی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شاید یہ طوفان ‘ فیلن’ اس سال کا شدید ترین طوفان ہوسکتا ہے جو 240 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کیلئے ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ اس طوفا ن کو ‘ سپر سائیکلون’ کا نام بھی دیا جارہا ہے۔
سمندر پر چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے درخت اکھڑنے اور کمزور درختوں کے گھرنے کے واقعات نوٹ کئے گئے ہیں۔
خلیجِ بنگال میں پیدا ہونے والے اس سمندری طوفان کے ہواؤں کی رفتار 240 کلومیٹر ہے اور اسے 1999 کے طوفان کی طرح قرار دیا جارہا ہے جس میں 8,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ریاسٹ اوڑیسہ کے سپیشل ریلیف کمشنر، پرادپتا ماہوپترا نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ شدید سمندری طوفان ساحل کی جانب بڑھا چلا آرہا ہے۔
اداروں کا کہنا ہے کہ جب طوفان کا مرکز ( طوفان کی آنکھ) آدھی رات کو مہاراشٹر کے ساحلوں سے ٹکرائے گی تو کم از کم تین میٹر بلند لہریں پیدا ہوں گی اور شدید بارشوں سے نشیبی علاقوں میں سیلابی کیفیت کا خدشہ ہے۔
ہندوستان میں ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقےمیں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور محفوظ مقامات پر موجود لوگوں کو مفت کھانا دیا جارہا ہے جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد بسوں ، رکشوں اور دیگر سواریوں سے محفوظ علاقوں تک جاری ہیں۔
دوسری جانب خوراک ذخیرہ کرنے کا یہ عالم ہے کہ اکثر دکانیں ہفتے کی صبح تک ہی خالی ہوگئیں اور وہاں سے کھانے پینے کا سامان ختم ہوگیا۔
مچھیروں نے سمندروں کا مزاج بگڑنے کی رپورٹ دی ہے اور اپنی کشتیوں کو محفوظ مقامات پر رکھ چھوڑا ہے۔
بڑی کشتیاں بڑی تعداد میں ساحلوں پر جمع ہیں جبکہ پرادیپ میں سب سے بڑی بندرگاہ بند کردی گئی ہے۔
دس اکتوبر دوہزار تیرہ کو لی گئی اس تصویر میں مہاراشٹر کے ساحلوں پر مچھیرے اپنی کشتیوں کو ساحلوں پر باندھ رہے ہیں۔ اے پی تصویر
www.urdunewsgroup.blogspot.com
دس اکتوبر دوہزار تیرہ کو لی گئی اس تصویر میں مہاراشٹر کے ساحلوں پر مچھیرے اپنی کشتیوں کو ساحلوں پر باندھ رہے ہیں۔ اے پی تصویر
آفیشلز کے مطابق اڑیسہ اور آندھرا پردیش کے ساحلوں سے تقریباً پانچ لاکھ افراد  کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔
پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں ساحلوں کے پاس موجود تمام ہوٹلوں کو خالی کرانے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں کیونکہ چھتیس گڑھ ریاست کے ریلیف کمشنر کرشنا رام پسدا کے مطابق مجاز ادارے ممکنہ سیلاب سے بچنے کیلئے ڈیمز کو دریا میں خالی کرسکتے ہیں۔
ہندوستان کی نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) کے نائب کے مطابق یہ ہندوستان کی تاریخ میں عوام کا سب سے بڑا انخلا ہے جس کے لئے باضابطہ طور پر ارلی وارننگ سسٹم کو مدِ نظر رکھا گیا ہے۔
‘ ہم جنگی بنیادوں پر کام کررہے ہیں،’ انہوں نے نئی دہلی میں کہا۔
اس سانحے میں گوپال پور کا شہر سب سے ذیادہ متاثر ہوگا ۔ یہاں بچوں اور خواتین کو پہلے ترجیحی بنیادوں پر اسکولوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔
ہندوستان فوج کے ساتھ فضائیہ اور ریڈ کراس جیسے ادارے بھی چوکنا ہیں۔ اڑیسہ میں 1,200 فوجی اہلکار اور آندھرا میں 500 فوجی تعینات ہیں۔
انڈین محمکہ موسمیات نے اس طوفان کو سپر سائیکلون قرار دیتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔
بعض غیرملکی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ طوفان اس سے بھی ذیادہ شدید ہوسکتا ہےجس کی پیشگوئی انڈین ماہرین کررہے ہیں۔
ننانوے کا طوفان
سال 1999 میں عین اسی جگہ ایک زبردست طوفان آیا تھا جس نے مچھیروں اور دیگر غریب آبادی کو متاثر کیا تھا جبکہ آٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے اور 445,000  مویشی ہلاک ہوئے تھے۔ پھر سمندر کا کڑوا پانی زمین پر موجود ہونے سے زراعت کو برسوں تک سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تھا اور یہ علاقہ امداد کے رحم و کرم پر تھا۔
واضح رہے کہ 1970 میں خلیجِ بنگال میں زبردست طوفان آیا تھا جو تاریخی طور پر تباہ کن تھا اس میں سینکڑوں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے تھے۔

Friday, 4 October 2013

فیس بک پر موجود عریاں تصاویر اور ویڈیوزپر مشتمل ویب سا ئٹس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے پڑھیں۔

فیس بک پر موجود عریاں اور فحاشی پر مبنی تصاویر اور ویڈیوزپر مشتمل ویب سا ئٹس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے درجہ ذیل اقدام کریں۔ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک شئیر کریں۔ تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ برائی سے بچ سکیں۔۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔






 کعبے کی رونق، کعبے کا منظر۔۔۔اللہ اکبر، اللہ اکبر





کیا ماں کی محبت کا قرض ادا کیا جا سکتا ہے ؟؟؟؟؟
ﺍﯾﮏ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ. ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ. ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭩﯿﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﻓﭧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺍﻥ ﭘﮍﮪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ - ﺳﺎﺱ ﮨﮯ.
ﺑﺎﺕ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ -
"ﻣﺎﮞ .. ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺮﺽ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ. ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﺳﻮﺩ ﺳﻤﯿﺖ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ. ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ. ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﺳﮑﮭﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ.
ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ !!! "ﺑﯿﭩﺎ _ ﺣﺴﺎﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﻤﺒﺎ ﮨﮯ، ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ. ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﻭﻗﺖ ﭼﺎﮨﯿﮯ".
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮧ ﮐﮩﺎ"-ﻣﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪﻱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ. ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ".
ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ، ﺳﺐ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ. ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ. ﺑﯿﭩﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ. ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﮯ ﻟﯽ. ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ. ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﯽ .. ﻣﺎﮞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺴﺘﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ ؟
ﻣﺎﮞ ﺑﻮﻟﯽ - "ﺑﯿﭩﺎ، ﺗﻮﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ. ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺘﻨﯽ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺴﺘﺮ ﮔﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻛﺎﭨﻲ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﺍﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﯿﺎ ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺣﺴﺎﺏ
ﺷﺮﻭﻉ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺗﻮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ".
ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ. ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺭﺍﺕ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ. ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ زندگی ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ۔"
--------------------------------------------
ایک خوبصورت بات:۔۔۔۔۔
" کہتے ہیں ایک شخص ایک عقلمند کے پیچھے سات سو میل' سات باتیں دریافت کرنے کے واسطے گیا۔۔ جب وہاں پہنچا تو کہا !!!
ًمیں اتنی دور سے سات باتیں دریافت کرنے آیا ہوں ۔۔"
آسمان سے کون سی چیز زیادہ ثقیل ہے ؟
زمین سے کیا چیز وسیع ہے ؟
پتھر سے کون سی چیز زیادہ سخت ہے ؟
کون سی چیز آگ سے زیادہ جلانے والی ہے؟
کون سے چیز زمہریر سے زیادہ سرد ہے ؟
کون سی چیز سمندر سے زیادہ غنی ہے ؟
یتیم سے زیادہ کون بدتر ہے ؟
عقلمند نے جواب دیا !!
"بے گناہ پر بہتان لگانا آسمانوں سے زیادہ بھاری ہے ۔۔
اور حق زمین سے زیادہ وسیع ہے اور کافر کا دل پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔۔
حرص و حسد آگ سے زیادہ جلائے جانے والی ہیں اور رشتے داروں کے پاس حاجت لے جانا اور کامیاب نہ ہونا زمہریر سے زیادہ سرد ہے ۔۔
قانع کا دل سمندر سے زیادہ غنی ہے اور چغل خور کی حالت یتیم سےبدتر ہوتی ہے ۔۔۔"

---------------------------------------------
ہنسنا منع ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
----------------------------------------------
وہ شادی کی ایک تقریب تھی ۔۔۔ ایک صاحب میرے قریب اۤن بیٹھے ۔۔۔ دو چار باتوں کے بعد پوچھنے لگے ،، کیوں صاحب ۤاۤپ کی عمر ما شا اللہ کتنی ھوگی؟،،
میں نے کہا ،، صاحب ھندسوں میں تو نہیں بتاوُں گا ۔۔۔ مختصراً عرض کرتا ھوں کہ اب چار چشمے استعمال کرتا ھوں ۔۔۔ ایک قریب کا، ایک دور کا، ایک دونوں کو دیکھنے کا اور ایک کمپیوٹر پر کام کرتے وقت کے لئے،،۔۔۔
وہ چند لمحوں تک سوچ کر بولے ۔۔۔،،دھوپ کا چشمہ استعمال نہیں کرتے ؟ ،،
میں نے عرض کیا ۔۔۔
،،نہیں ضرورت ھی نہیں پڑتی،،۔۔۔
اس پر مسکرائے اور بولے ۔۔۔
،،صاب میں تو کرتا ھوں ۔۔۔ اس عمر میں دھوپ کا چشمہ ضرور استعمال کرنا چاہئے کیونکہ ھم عمر خواتین کی طرف بغیر چشمے کے دیکھو تو وہ کہتی ھیں ،،لو ۔۔۔بڈھے کو دیکھو....کیسے گھور رہا ھے!
--------------------------------------------------------------
ہوائی جہاز کے ایک حادثے میں کوئی شخص زندہ نہ بچا۔ ماہرین جائے حادثہ پر پہنچے تو ہر چیزیوں تباہ ہو چکی تھی کہ حادثے کی وجوہات کا پتہ چلانا ممکن نہیں تھا۔ تباہ شدہ جہاز کے قریب کسی درخت پر ایک بندر بیٹھا تھا، جس کے گلے میں ائیر لائن کا ٹیگ لٹک رہا تھا۔ پتہ چلا کہ یہ بندر بھی تباہ ہونے والے جہاز کا مسافر تھا۔ اسے پکڑ لیا گیا۔ اشاروں کی زبان کے ایک ماہر کی خدمات حاصل کی گئیں، تاکہ وہ بندر سے بات چیت کر کے کچھ معلوم کر سکے! تفتیشی بورڈ نے ماہر کے ذریعے بندرسے سوال کیا، ”حادثہ کتنے بجے ہو اتھا؟“ اشاروں کی زبان والے ماہر نے سوال بندر کو سمجھایا، بندر نے سوال سن کر اپنی کلائی کی طرف اشارہ کیا، پھر دونوں ہاتھوں کی دس انگلیاں کھڑی کیں، اس کے بعد اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے گال پر رکھے اور سر کو ٹیڑھا کر لیا۔ ماہرین نے اشارہ سمجھ کر بتایا”بندر کہہ رہا ہے حادثہ رات کے دس بجے ہوا۔“ تفتیشی بورڈ نے اگلا سوال کیا،” اس وقت مسافر کیا کر رہے تھے؟“ بندر نے پھر دونوں ہاتھ اپنے گال کے ساتھ رکھ کر سر کو ٹیڑھا کیا، ماہر نے پھر بتایا،”بندر کہہ رہا ہے مسافر سو رہے تھے!“ ائیر سوسٹسیں کیا کر رہی تھیں؟ بندر نے کہا”سو رہی تھیں۔“ تفتیش کرنے والوں نے پو چھا”پائلٹ کیا کر رہاتھا؟“ بند رنے پھر وہی جواب دیا”سو رہا تھا۔“ تفتیشی ٹیم میں سے ایک نے بندر سے پو چھا،”جب سب لوگ سو رہے تھے تو تم کیا کر رہے تھے؟“ بندر نے دونوں ہاتھوں کو گھماتے ہوئے اشارے سے بتایا،”جہاز چلا رہا تھا
--------------------------------------------------------------------------
استاد شاگرد سے: "اگر کسی کی عمر 25 سال ہے- تو مزید 25 سال بعد اس کی عمر کیا ہو گی؟
شاگرد: "سر! یہ ایک مشکل سوال ہے-"
استاد: "اس میں مشکل والی کون سی بات ہے؟"
شاگرد: "آپ نے یہ نہیں بتایا کہ کس کی عمر پوچھی ہے، مرد کی یا عورت کی؟"


Wednesday, 2 October 2013

برطانیہ کی تنگ نظری دیکھیں۔ ’اسلامی شعائر کے نفاذ کا الزام، مسلم سکول بند۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھیں۔

رپورٹ بی بی سی اردو
برطانیہ میں ایک اسلامی سکول کو حکومت کے نگران ادارے کے معائنے کے بعد فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ڈربی کے علاقے میں واقع المدینہ نامی مفت تعلیم فراہم کرنے والے اس سکول پر سخت اسلامی شعائر کے نفاذ کا الزام تھا۔



بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ نگران ادارے آفسٹیڈ کو حاصل ہونے والی معلومات اتنی سنگین تھیں کہ سکول کے قائم مقام سربراہ کے پاس اس کی فوری بندش کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
تاہم مدرسے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سکول ’صحتِ عامہ اور تحفظ کے معاملات‘ کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور اسے مستقبل قریب میں دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
آفسٹیڈ کا کہنا ہے کہ حاصل شدہ معلومات ادارے کے پرنسپل کو بھی فراہم کر دی گئی ہیں تاہم وہ معائنے کی تکمیل تک اپنے خدشات عام نہیں کر سکتا۔
سکول کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کے مطابق یہ ’مختصر مدت کی بندش‘ ہے۔ قائم مقام پرنسپل سٹورٹ ولسن نے بیان میں کہا ہے: ’صحت اور تحفظ کے معاملات کی وجہ سے میں نے اس وقت تک سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ تمام بچے عمارت میں محفوظ ہیں۔‘
"صحت اور تحفظ کے معاملات کی وجہ سے میں نے اس وقت تک سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک مجھے یقین نہیں ہو جاتا کہ تمام بچے عمارت میں محفوظ ہیں۔"

بیان میں والدین سے کہا گیا ہے کہ سکول دوبارہ کھلنے کے بارے میں انہیں براہِ راست اور ویب سائٹ پر بھی مطلع کر دیا جائے گا۔
اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ماضی میں المدینہ سکول کے سابق اساتذہ نے الزامات عائد کیے تھے کہ وہاں لڑکیوں کو کمرۂ جماعت میں آخری نشستوں پر بیٹھنے کو کہا جاتا تھا۔
نامعلوم خواتین اساتذہ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ چاہے وہ مسلمان ہوں یا نہیں، انہیں مخصوص لباس پہننے کو کہا جاتا تھا اور حجاب اس کا حصہ تھا۔
گزشتہ ہفتے سکول کے قائم مقام پرنسپل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں مخصوص لباس یا طلبا کو الگ الگ بٹھانے کے حوالے سے عملے کی جانب سے کوئی شکایت نہیں ملی تھی۔
المدینہ سکول نے اپنے آغاز پر ملک کے ایسے پہلے مفت اسلامی سکول ہونے کا دعویٰ کیا تھا جہاں تمام درجوں میں تعلیم دی جاتی ہے۔

آفسٹیڈ وہ واحد ادارہ نہیں جسے المدینہ کے بارے میں خدشات ہیں۔ اس سکول کو حکومتی فنڈ فراہم کرنے والا ادارہ ایجوکیشن فنڈنگ ایجنسی بھی یہاں مالی بےضابطگیوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔
برطانوی محکمۂ تعلیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان الزامات کے سامنے آنے سے قبل ہی یہ ادارہ زیرِ تفتیش ہے۔
بیان کے مطابق ’ہم نے مسائل کے بارے میں آفسٹیڈ سے بات کی جس پر انہوں نے فوری طور پر معائنہ کیا۔ ہمیں آفسٹیڈ کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے اور ہم تمام قانونی راستوں کو مدِنظر رکھے ہوئے ہیں۔‘
انگلینڈ میں مفت سکولوں کا نظام 2010 میں معیارِ تعلیم بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
والدین یا کمیونٹی گروپس کی جانب سے قائم کیے جانے والے ان سکولوں کو ریاست فنڈ دیتی ہے اور یہ علاقے کی مقامی تعلیمی اتھارٹی کے دائرۂ کار میں نہیں آتے۔

پاک فوج میں بھرتیاں شروع ،تفصیلات اور طریقہ درخواست یہاں پر




وقت اور دولت

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:
" تمھاری عمر کتنی ہے؟"
تاجر نے کہا "20 سال۔ "
" تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ "
تا جرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار"
بادشاہ نے پوچھا: "تمھارے بچے کتنے ہیں؟ "
تاجر نے جواب دیا: "ایک"
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔
بادشاہ نے وزیر سے کہا:
"اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔"
تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ "
یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:
"ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔"

Tuesday, 1 October 2013

اتنا مصنوعی حسن اور خوبصورتی آپ نے پہلے کبھی دیکھی؟؟؟ آلعین گارڈن دبئی


          
اتنا مصنوعی حسن اور خوبصورتی آپ نے پہلے کبھی دیکھی؟؟؟  آلعین گارڈن دبئی


The garden had set the Guinness World Records achievement last year with 2,426 hanging baskets. This year however, Akar Landscaping Services and Agriculture (the company responsible for the garden), had decided to expand the garden to make it even more impressive, and hopefully to break their own record. The general Manager of Akar Landscaping Services and Agriculture Est., Abdelnasser Rahhal, today announced that the company will organize a Guinness World Records attempt for the largest number of hanging flower baskets on Monday February 28, 2011 in AL-Ain city, United Arab Emirates. 15 more images after the break...




The Largest Number of  Hanging Flower Baskets Record Attempt

Celebrating the start of spring season in the United Arab Emirates, the organizers plan to unveil a breath-taking flower garden, “AL-Ain Paradise,” with thousands of flower baskets in the middle of the desert.
Rahhal said: “We are very excited to take on this record challenge and share our beautiful landscaping designs with the world – hopefully people will visit us and enjoy the view.”  Akar Landscaping Services and Agriculture Est. will rely on Vertical Landscaping Technologies to create the stunning 2,968 flower baskets, securing a new Guinness World Records achievement.
















400 سالہ تاریخ کا حامل ۔۔۔۔خوبصورت شاہکار۔۔۔مزید پڑھییے۔

 
 

MUGHAL GARDEN(Shalimar Gardens) HAVING CHARM FOR WIEWERS SINCE LAST 400 YEARS

THE BEST PRESERVED MUGHAL GARDEN OF LAST 400 YEARS (Shalimar Gardens , Lahore, Pakistan)


The great Mughal Empror, Shah Jahan Literally meaning, “King of the world, ruled India for 30 years from 1628 to 1658.He was considered to be one of the greatest Mughals and his reign has been called the Golden Age of
Mughals.

Besides erecting many splendid monuments like, Taj Mahal, Moti Masjid, Delhi Red Fort and Mosque, Shah Jahan has also constucted Shalimar Gardens at Lahore which are considered to be the best preserved Mughal Gardens of last 400 years. Anyone going there would first encounter a high red sandstone wall interrupted by small decorative kiosks.This is a hallmark of Mughal architecture. Beside privacy and security, the walls excluded the wildness of nature and included the tended, watered greenery of the garden.

When one pays a visit to these amazing gardens, the first glimpse is always awesome; a line of fountains in a water channel stretched a long way. The garden had three levels. The first and the highest level, Presumably, in old days it was reserved for the imperial ladies as it was concealed from the view of people entering directly from the side doors on the lower levels.

By a leisurely walk along trees and budding flowerbeds, there is an arcaded pavilion which marked the end of the upper terrace. It was entirely built with white marble. Water flows under the pavilion, cascading down over a carved marble slab mimicking a waterfall effect. In the years gone by, this pavilion was used by Mughal Emperors and their family members to enjoy the coolness created by about 410 fountains.

Standing by the edge of the pavilion, one can see the middle and lower terraces. The gardens are surrounded by a wall with intricate fretwork or interlaced decorative designs in geometric patterns giving an overall view of an oblong parallelogram.

In the middle terrace, there is a magnificent water reservoir studded with fountains bordered by an elaborate marble work. During Shalimar Festival the grounds are artistically laid out with flower beds and promenades and all pavilions would glitter with lights and whole place would be transformed into fairyland. Shalimar Gardens of Lahore were one of the best specimens of the art of land-scaping introduced by the Mughals in the South Asian Sub-Continent. In 1981, Shalimar Gardens was included as a UNESCO World Heritage.

Monday, 30 September 2013

رکشے کے پیچھے ایک ایسی عبارت جو پڑھ کر ہم سب کو فخر محسوس ہو گا۔ تفصیل پڑھیں۔



"معذور اور نابینا افراد مفت سفر کریں"رکشے کے پیچھے ایک ایسی عبارت جو پڑھ کر ہم سب کو فخر محسوس ہو گا۔ تفصیل پڑھیں۔

مجھے فخر ہے میں پاکستانی ہوں
پاکستان زندہ باد





------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
فوجی یونٹ میں ایک سپاہی شر طیں لگانے اور حیرت انگیز طور پرجیت جانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا ۔ ایک یونٹ سے
 دوسرے یونٹ میں اس کا تبادلہ ہوا تو اس کی سابقہ یونٹ کے کما نڈر آفیسر نے اس کے نئے یونٹ کے کمانڈر آفیسرکو ٹیلی فون پر بتا یا کہ ہماری یونٹ سے آپ کے ہاں ایک پوسٹ ہو کر ٓانے والا فالا ں سپا ہی شر طیں لگانے اور ہر بار جیت جانے میں بڑا ما ہر ہے ،تم احتیاط کرنا ۔

احتیاط کی تلقین پانے والے کما نڈر آفیسر کو نئے آنے والے سپاہی کے بارے میں تجسس بڑھا اور اس نے اپنے پرسنل سسٹنٹ سے کہا ، یہ باکمال سپاہئ جو نہی یو نٹ پہنچے مجھے اس سے ملوا دینا ۔

اگلے دن نئی کلف شدہ وردی پہنے یہ سپاہی کما نڈر آفیسر کے سامنے کھڑا تھا ۔ صا حب کے استفسار پر اس نے کہا ، سر ایسی کوئی بات نہیں ، میں یو نہی بات بات پر شرط نہیں لگاتا ۔بس جب بات ہی ایسی ہو تو شرط لگا نا پڑتی ہے اور ہار جیت تو مقدر کی بات ہے ۔جیسے اب مجھے معلوم ہے کہ آ پ کی پیٹھ پر تل ہے آپ اگر پانچ سو روپے کی شرط لگاتے ہیں تو میں اس کیلئے تیار ہوں ۔ کما نڈر آفیسر کو بھی کبھی نہ ہارنے والے کو ہرانے کا اشتیاق تھا ، اس نے فورا اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور پیٹھ دکھا دی ۔سپا ہی نے اپنی جیب سے فورا پانچ سو روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا ، سر میں یہ شرط ہار گیا ہوں ، یہ پنچ سو روپے آپ کے ہوئے ۔

کما نڈر آفیسر نے فا تحانہ انداز سے فون پر اس کے سا بقہ کما نڈر آفیسر سے کہا ، تم تو کہتے تھے کہ وہ کبھی شرط نہیں ہارتا ، اور پھر تمام واقعہ سنایا ۔ سپاہی کے سابقہ کما نڈر آفیسر نے کہا ، جناب آپ نے مجھے مروا دیا اس نے جاتے ہوئے مجھ سے ہزار روپے کی شرط لگا ئی تھی کہ میں نئ یونٹ میں جاتے ہی کما نڈنگ آفیسر کی شرٹ اتروا دوں گا۔۔"




سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاون ۔۔۔۔۔کیوں اور کون کر رہا ہے۔۔۔ تفصیل پڑھیں۔

کامیابی کا راز!!!

مشہور فلسفی ابن طفیل نے لوگوں کو خوش ہوکر بتایا۔۔۔۔۔
“ اے لوگو! میں نے ۔۔۔۔ وہ راز پالیا ہے ۔۔۔ جس سے انسانی معاشرہ خوش و خرم رہ سکتا ہے۔۔۔
ایک دوست نے دریافت کیا۔۔۔۔“ ذرا بتائیے تو وہ کس طرح۔۔۔؟“
ابن طفیل نے جواب دیا ۔۔۔۔
“کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لئے ہے ۔۔۔۔ درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے۔۔۔۔۔ دریا اپنا پانی خود نہیں پیتا۔۔۔۔
یہ بہاریں ۔۔۔ یہ برساتیں ۔۔۔ یہ نغمے۔۔۔۔ سب دوسروں کے لئے ہیں۔۔۔ بس وہی زندگی اچھی ہے ....
جو دوسروں کے لئے ہو...

---------------------------
---------------------------

مزاحیہ نمک پارے:۔۔۔۔۔

"آج تمہارا ڈرائیونگ ٹیسٹ تھا۔ کیا رزلٹ آیا؟"
"ٹیسٹ لینے والا زخمی حالت میں اسپتال میں پڑا ہے اسے ہوش آئے گا تو رزلٹ پتا چلے گا۔"

-------------------------------------------

57% امریکی خواتین اپنے فارغ وقت میں کتابیں پڑھتی ہیں جبکہ ہماری خواتین کے پاس فارغ وقت بچتا ہی نہیں کیونکہ وہ سارا وقت اپنی ساس، بہو یا پڑوسن کی برائیاں کرنے میں صرف کرتی ہیں۔

اس سروے میں کس حد تک سچائی ہے؟؟

------------------------------------------

یہ تمہارے بیٹے کو انگوٹھا چوسنے کی عادت تھی۔ تم نے یہ عادت کیسے چھڑائی؟"
"میں نے اس کی نیکر کا الاسٹک ڈھیلا کردیا، اب وہ ہر دم نیکر کو تھامے رہتا ہے۔"

-----------------------------------------

"بس میں بوڑھے کی جیب سے نوجوان کا ہاتھ ٹکرایا تو اس نے نوجوان سے کہا "کیا کررہے ہو؟"
"نوجوان نے فوراً جواب دیا۔ "گورنمنٹ کالج سے بی اے کررہا ہوں۔"

----------------------------------------------

بیوی۔ "میں مر جاؤں گی تو تمہیں مجھ جیسی بیوی نہیں ملے گی۔"
شوہر۔ "مگر میں تمہارے جیسی تلاش ہی کیوں کروں گا؟"

----------------------------------------------

"تم نے چور کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟"
"میں چور کو بے شک گرفتار نہ کرسکا مگر اس کی انگلیون کے نشانات اپنے گال پر لے آیا ہوں۔"

-----------------------------------------------

ایک پاگل دوسرے سے: یار! لوگ ہمیں پاگل کیوں کہتے ہیں؟

دوسرا پاگل: چھوڑ یار، تو لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دیا کر، کچھ بھی بولتے رہتے ہیں.. یہ لے ٹماٹر اور بنا روح افزاء....

Sunday, 29 September 2013

سعودی عرب میں حج سے پہلے کیا بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں۔

حج کی آمد پر غلاف کعبہ ساڑھے تین میٹر اونچا کردیا گیا

مکہ المکرمہ (اے پی پی) حج کی آمدکے پیش نظر غلاف کعبہ کوساڑھے تین میٹر اونچا کر دیا گیا ہے۔ جس سے اس کی زمین سے اونچائی ایک عام انسانی قد سے بھی زیادہ اونچی ہوگئی ہے۔ عازمین حج اب غلاف کعبہ کو ہاتھ نہیں لگا سکیں گے اور نہ ہی اب اسے چوما جا سکے گا۔ سعودی عرب میں حج کے موقع پرعموماً ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ غلاف اونچا کرنے کا مقصد اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ عام طور پر ہر عازم حج دوران عبادت اسے چھونا‘ چومنا اور اسے پکڑ کر دعا مانگنے کا متمنی ہوتا ہے۔ اس سے ایک طرف تو لاکھوں حاجیوں کے طواف میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ وہاں رش بڑھ جاتا ہے دوسرا اکثر لوگ غلاف کعبہ کو کاٹ کر بطور تبرک ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ زائرین اور مطوفین کے چھونے اور رگڑ لگنے سے غلاف کعبہ خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لئے کچھ برسوں سے سعودی حکومت نے غلاف کو گھسنے سے بچانے کے 
لئے اسے نچلی سمت سے ساڑھے تین میٹر اوپر اٹھانے کی روایت ڈال دی ہے جو دراصل ایک ضرورت بھی ہے۔

-----------------------------------------------------------------------------------------------------

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مصر میں دو امیر زادے رہتے تھے۔ ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے مال و دولت جمع کیا۔ آخر کار ایک زمانے کا بہت بڑا عالم بن گیا اور دوسرے کو مصر کی بادشاہت مل گئی۔ بادشاہ بننے کے بعد اس نے اس عالم کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور کہا ” میں حکومت تک پہنچ گیا اور تیری قسمت میں غربت و مسکینی آئی۔ “
عالم نے کہا ” اے بھائی ! مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر تجھ سے زیادہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے پیغمبروں کا ورثہ یعنی علم پایا اور تو نے فرعون و ہامان کی میراث یعنی مصر کی حکومت پائی ہے۔

کجا خود شکر ایں نعمت گزارم کہ زور مردم آزای ندارم

( میں اس نعمت کا شکر کیسے ادا کروں کہ میں لوگوں کو ستانے کی طاقت نہیں رکھتا یعنی بنی نوع انسان کو مجھ سے فائدہ پہنچتا ہے اور تجھ سے نقصان، پس دیکھ لے خدا کا فضل کس پر زیادہ ہے۔ )

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------



مئودب مزاح ۔۔اگر ہنسی نہ آئے تو غصہ کر لیجیے گا۔۔۔۔پر آپ اس سے پہلے ہی ہنس پڑھیں گے۔ ایک کسان نے گھر میں داخل ہوتے ہی اپنی بیوی کو بتایا کہ آج جب وہ اپنے گدھے پر چارہ لاد کر گھر آرہا تو راستے میں گدھے،،،

اتنے میں چنو نے زور سے ہانک لگائی،،،،،
امی منو نے میرا جوتا پہن لیا ہے،

بیوی نے اپنے خاوند سے معذرت کی اور ان بچوں کا معاملہ سیٹل کروانے کے بعد دوبارہ اپنے شوہر کے پاس آبیٹھی اور بولی،

اب سناؤ کیا ہوا تھا،

کسان بولا کہ جب میں گدھے کو لیکر واپس گاؤں کی چلا تو،،،، ا
اتنے میں سب سے چھوٹی بیٹی چلانے لگی جو واکر سے گر کے ماتھے پر چوٹ کھا بیٹھی تھی اور اسکے ماتھے پر ایک گومڑ سا ابھر آیا جس طرح گوادر میں جزیرہ ابھرا ہے۔

اسی طرح بے چارے کسان نے کئی مرتبہ اپنی بات مکمل کرنے کی کوشش کی مگر اسکی اپنی ہی ''مکتی باہنی'' نے اسے ناکام بنادیا۔

آخر کار کسان کی بیوی اپنے بچوں پر برس پڑی اور انہیں سختی سے ڈانٹتے ہوئے بولی،

کم بختو!

سکون کے ساتھ ''گدھے'' کی بات تو سن لینے دو،،،،! 

Friday, 27 September 2013

Thursday, 26 September 2013

اسلام آباد انتظامیہ نے طالبات کے ”جینز“ پہننے پر لگا دی ہے پابندی۔ تفصیل پڑھیں۔



------------------------------------------------------------------------------------------------------------



اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں انتظامیہ نے طالبات کے ”جینز“ پہننے پر لگا دی ہے پابندی۔ نوٹس بورڈ پر لکھے ہدایت نامے کے مطابق 11طالب علموں پر مختلف وجوہات کی بنا پر جرمانہ کیا گیا جس میں 
سگریٹ نوشی‘ لیبارٹری میں کھانا پینا اور 7طالبات کو ڈوپٹہ نہ اوڑھنے اور جینز پننے پر جرمانہ کیا گیا۔



------------------------------------------------------------------------------------------------------



ایک بوڑھے کسان نے اپنے بیٹے کو جیل میں خط لکھا
" پیارے بیٹے! تمہارے جیل جانے کے بعد میں بوڑھا، آلو کی فصل کاشت نہیں کر سکوں گا، ...کاش تم میرے پاس ہوتے۔۔"

بیٹے نے جواب لکھا" پیارے ابا جان! کھیت مت کھودنا، میں نے وہاں اسلحہ چھپا رکھا ہے۔"


اگلے دن پولیس نے سارا کھیت کھود ڈالا لیکن انھیں وہاں کچھ نہ ملا

بیٹے نے باپ کو پھر خط لکھا

"پیارے ابا جان! اب آپ آلو کی فصل کاشت کر سکتے ہیں میں یہاں سے آپ کی اتنی ہی خدمت کر سکتا ہوں۔


فقطآپ کا بے قصور بیٹا۔"


--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


کالج کے زمانے میں ایک دفعہ میں الیکشن میں کھڑا ہوا تھا۔۔ میرے مقابلے میں ایک لڑکی کھڑی تھی، میں نے دوستوں
 کے ساتھ مل کر اس کے پرس میں ایک نقلی چھپکلی رکھ دی۔۔ جب وہ تقریر کرنے ڈائس پر آئی اور تقریر والا کاغذ نکالنے کے لئے پرس میں ہاتھ ڈالا تو ٹھیک ساڑھے چار سیکنڈ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اور پھر اچانک پوری ذمہ داری سے غش کھا کر گرگئ۔۔


اس بات کا بدلہ اس ظالم نے یوں لیا کہ میرے الیکشن والے پوسٹروں پر راتوں رات، جہاں جہاں بھی "نامزد امیدوار" لکھا تھا، وہاں وہاں "نامزد" میں سے 'ز' کا نقطہ اُڑا دیا۔۔یعنی کہ ”نامرد امیدوار”.... میں آج تک اس کی "سیاسی بصیرت" پر حیران ہوں۔۔۔۔۔۔

یونس بٹ کتاب شیطانیاں سے اقتباس

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔”ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔“


ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ'' ﺍﺱ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯ”ﻣﯿﮟ“ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﻭ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﮑﺒﺮ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔”ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ“ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﻭ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻧﻔﺲ ﮐﯽ
ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ”ﺳﮑﻮﻥ“ﺧﻮﺩﺑﺨﻮ ﺩ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﮔﺎ۔ "

------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------





ڈالر 109 روپے سے بھی مہنگا‘ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضوں کا اثر پڑا : حکومت کا اعتراف

روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث مالی بحران سنگین ہوگیا


------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------